مارکس کے نظریات کی سائنس سے عدم مطابقت اور احمقانہ پن

سما جی نظام کا باغی حقیقی سرمایہ دار حامی کارل مارکس

مارکس کے نظریات کو سماجی کیوں نہیں کہہ سکتے اور وہ کبھی بھی سماجی نہیں لیکن وہ صرف ریاستی سرمایہ دارانہ نظام کی طرف لے جاتے ہیں

(پیری ریمیس)

مشمولات

حصہ اول۔ مارکس، سرمایہ دارانہ نظام کا رجعت پسند حامی

حصہ دوم۔ اشتراکی منشور

حصہ سوم۔ سرمایہ

حصہ چہارم۔ اضافی قدر کی تعلیمات

مارکس کی سرمایہ دارانہ رجعت پسندی

سماجی جمہوریت کی بنیاد مارکس کی تعلیمات ہیں اور ہمیشہ اس کے صرف درست نظریات کو بطور سائنسی سماجیت بیان کرتی ہیں۔ اب اس کے سائنسی اصطلاح کے ساتھ اور معنی ہیں۔ہم اکثر دیکھ سکتے ہیں کہ سائنسی ہدایات جو نیا علم دیتی ہیں جلد ہی اس کی جگہ کوئی نئی وضاحت، وراثت یا سوچ لے لیتی ہے۔

بنیادی طور پر فلکیات ، ریاضی، کیمیا اور کچھ دوسرے عام نام نہاد قوانین فطرت کے صرف چند محدود وضاحتی شعبوں کو سائنس کہا جا سکتا ہے۔ لیکن انسانی سماجی زندگی کے مطالعہ کو سائنس کی طرف حوالہ دینا جس طرح مارکس نے کیا خاص طور پر جب یہ تصوراتی شکل میں ہو محض ایک بے سود مفروضے کے سوا کچھ نہ ہو گا۔

درج ذیل ریمارکس ثابت کریں گے کہ مارکس کی تعلیمات نہ صرف محض غیر سائنسی ہیں بلکہ غلط بھی ہیں۔ سچائی کو جاننے کا صرف ایک پیمانہ ے جو کہ ہماری منطق ہے۔ اور یہ کہ ہم کسی چیز کی سچائی کو مان لیتے ہیں جب ہم اس کے ہونے اور جو کچھ ہو رہا ہے میں سبب اور اکثر کو متعین کر سکتے ہیں۔

اس نقطہ نظر سے ہم صنعتی مزدوروں کی تحریک کو عالمی نظریے جس کی بنیاد دوسری چیزوں کے ساتھ باکونین اور کروپوٹکن کی تعلیمات ہیں اور جو ہر جگہ جہاں تک ممکن ہو سکے حقیقی زندگی میں سبب اور اثر کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اہم اسے سائنسی کہہ سکتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں اس سائنسی نام کو ٹھکرانا نہ پڑے گا کیونکہ ہماری رائے میں سماجی زندگی میں سبب اور اثر نا گریز ترقی نہیں ہے اور چونکہ دونوں ایک طرف دانشورانہ عزم اور انفرادی اہلیت اور دوسری طرف سماجی حالات سے مسلسل متاثر ہوتے ہیں لیکن سبب کے بغیر کوئی اثر نہیں ہے۔

اس لیے سماجی جمہوریت کا خاتمہ کوئی حادثہ نہیں ہے بلکہ افراد کی ناکامی کی وجہ سے ہے بلکہ مارکس کے نظریات کے اثر کی وجہ سے ہے۔ بلاشبہ یہ بات درست ہے کہ سماجی جمہوریت میں جو لوگ اعلیٰ سطح پر ہوتے ہیں وہ عوام کے حق اور نہ ہی اپنے اخلاقی خصائص اور نہ ہی اپنی علمی دولت میں حقیقی آزادی اور محبت محسوس نہیں کرتے ہیں۔ وہ سیاستدان ہیں جو عوامی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر مثالی طور پر ذاتی مفاد کے چکر میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ صرف لوگوں کو موہ لینے کے حصول میں ہوتے ہیں۔ لیکن نہ صرف رہنما بلکہ عوام بھی ناکام ہوئے۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ تمام عمر جرائم دانستہ طور پر نہیں کیے گئے بلکہ سماجی جمہوریت کے زیادہ تر حامیوں نے اچھے عقیدے کے تحت عمل کیا۔لیکن یہ کہ تمام سماجی جمہوریت پسندوں نے رجعتی انداز میں عمل کیا۔ یہ مارکس کے نظریات کے اصولوں کی وجہ  سے ہے۔

1۔ ریاستی سماجیات اور ریاستی آمریت

2۔ پارلیمانی سیاست اور مرکزیت کے غلط طریقے

3۔ بورژوائی جمہوریت اور فوجی تنظیم کی احمقانہ حکمت عملیاں

یہ فرض کرنا کہ سماجی جمہوریت بتدرج خودبخود غائب ہو جائے گی غلط ہو گا۔ یہ اس وقت تک رہے گی جب سرمایہ دارانہ نظام رہے گا۔ ہمیشہ ایسے لوگ موجود ہوں گے جو موجودہ تشدد کے حالات، معاشی ڈاکہ زنی پر غلبہ پانے کی بجائے ممکنہ قابل برداشت حد تک اس کے ساتھ گزارہ اختیار کریں گے۔ آپ کو صرف ریاست کو تبدیل کرنا لیکن اسے ترک نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کا اتحاد سماجی جمہوریت کی جماعت ہے۔ سماجی جمہوریت ایک ثقافتی تحریک نہیں بلکہ ایک جماعتی تحریک ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعے زندہ رہتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام ہی اس کا جسم و جان ہے۔ اس کی موت سرمایہ دارانہ نظام کی موت سے ہوتی ہے۔ لیکن ایک تناظر جس کا نام منصوبوں کی تنظیم ہے جس کی بنیاد سوسائٹی ہےاور وہ صحیح تصورات پیش کرتی ہے کے مطابق سماجی جمہوریت کو سب سے پہلے رک جانا چاہیے۔ جبکہ سماجی جمہوریت کے اجزا توڑنا جاری رکھتے ہیں کیونکہ وہ اس کی حکمت عملیوں کو نقصان گردانتے ہیں۔ یہ تمام گروہ ماسوائے ان افراد کے جو ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں ان کے منصوبوں کے سحر میں جکڑے رہتے ہیں۔ ان گروہوں کت تنبیہ ہونی چاہیے اور صحیح راستہ دکھانا چاہیے۔

پرولتاری کو سماجی بنیادوںمتحد ہونے کا راستہ صرف اس وقت ملے گا جب مارکس کی حماقتوں پر غلبہ حاصل ہو گا،انہیں  بے وقعت اور بے وقوفانہ ہیجانہ انگیز چیز کے طور پر جو کہ آزادانہ سیاسی طور خفیہ اور آپ اپنے الٰہیات کے استعمال کے طور پر پہچان لی جاتی ہیں

اٹھارہویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے وسط تک تمام سماجی/معاشرتی سکولوں  تھامس کمپینو کے سولہویں صدی میں پیش کیے گئے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے تھے۔

تمام برائیاں دو مختلف چیزوں یعنی غربت و امارت سے جنم لیتی ہیں۔ مارکس  تک تمام سماجی فلاسفروں ، دانشوروں نے بورژوائی فلاسفی اور الٰہیات کو رد کر دیا۔

اس کے برعکس مارکس نے ہیگل کے تاریخی نقطہ نظر سے ہو کر آگے چلا جو بیان کرتا ہے "ہماری سماجی تنظیموں میں شامل ہر چیز بشمول برائی، تمام کمینگی اور تشدد تاریخی طور پر متعین چیزیں ہیں۔" کچھ اس انداز میں ضروری کہ وہ تاریخی طور پر مشروط ہیں۔ "کیونکہ ماضی اور حال میں ان کے عظمت کی طاقت تھی کہ وہ انہیں قائم رکھ سکیں۔ اب یہ مکمل طور پر بذات خود واضح ہے کہ جو سوال فوراً پیدا ہوتا ہے۔ ان تاریخی ضروریات کا سبب کون ہے کہ وہ کبھی یہ اور کبھی وہ نتائج دے رہے ہیں؟ تاہم اس سوال کا صرف ایک دینوی جواب ممکن ہے یہی وجہ ہے کہ ہیگل کے نظریات کے خدا کے تصور کی پہچان، اس کے اقتدار اور خدان کے پسندیدہ اور گرجا گھر کے اقتدار اعلیٰ اور عمومی طور پر ریاست کی تمام طاقتوں اور ان کے وجود کی پہچان کی طرف رہنمائی کی

یہ نظریہ واضح انداز میں رجعتی ہے کیونکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے لیے بہترین بہانہ اور جواز ہے۔ ہیگل کے نظریات اسے مانتے ہیں جو موجود ہے اور اسے جواز دیتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول ے " جو معقول ہے وہ حقیقی ہے اور جو حقیقی ہے وہ معقول ہے۔"

کیونکہ حقیقی سائنس کو غیر مشروط ہونا چاہیے۔ جوچیز پہلے ہی معقول طور پر موجود ہو کو پہچاننے میں تعصب اور اس کے تناظر میں ہیگل کے نظریات کی عملی، علمی اور مارکس کی متنوع معیشت کی صورت میں منتج ہوتی ہے۔

اس طرح کی تصدیقوں کے ردعمل میں پروزین حکومت نے 47-48 مییں بہترین فلاسفی ہیگل کو فلاسفی کا پروفیسر مقرر کیا اور اس کے رد عمل میں ہیگل نے اپنی موت تک اس خدمت کو جاری رکھا۔ ہیگل کے انداز فکر کی رجعت پسندی خاص طور پر اس وقت خاص طور پر عیاں ہوتی ہے جب آدمی موجودہ فرانسیسی روح عصر کے روسو اور اس جیسے دوسرے لوگوں کے نظریات کے خلاف سوچتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔ اس طرح کہتے ہیں "انسانی علم کی فراصت کو اصلی چیز کو اس کی سماجی حالت سے تبدیل کرنا چاہیے۔ اور یہ کہ ماضی کی اندھو طاقتوں کے تشدد کی پیداوار جن کا ماضی ابھی تک حل سے آگے بڑھتے ہوئے مستقبل بننے کی کوشش کرتا ہے اس کی بطور غیر معقول ہونے کے مذمت ہونی چاہیے۔ مارکس نے ابھی صرف ہیگل کے رجعتی نظریات کو برقرار رکھا ہے اسے انہی نتائج کی طرف آنا تھا۔ ہیگل انسانیت اور جگہ میں صرف روحانی مقصد کو سامنے رکھتا ہے جبکہ مارکس نے واقعات کو سماجی تاریخ کو مواد کی اصل کے طور پر وضاحت کی۔

مارکس کے مطابق انسانی زندگ ایسے حیاتیاتی عوامل پر مشتمل ہوتی ہے جن میں کچھ اعلیٰ اور کچھ دوسروں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ مارکس کے مطابق معیشت معاشرے کی بنیاد بناتی ہے جبکہ پوری دانشورانہ زندگی محض ایک سطحی ساخت ہے۔ اس کے برعکس فطرت اور معاشرے کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تمام حیاتیاتی عوامل مترتب اور ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ وہ فعل و سکون میں ہم جا ہیں۔ تمام افراد اس اثرسے متاثر ہوتے ہیں لیکن مختلف انداز میں۔ اور اس بات کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے کہ آیا ذہنی یا مادی عموامل فیصلہ کن اثر ڈالتے ہیں۔ ذہنی اور مادی اجزا میں ایک لگا تار تعامل ہوتا ہے۔ مارکس کے نظریات کی بنیاد ہیگل کے نظریات کہ چیزیں اور حالات مستقل اس طرح تبدیل ہوتے ہیں کہ معاملہ اس کے برعکس ہو جاتا ہے اور اس طرح ان دونوں کے جاری  رہنے سے ایک نئی قسم کی امتزاجی شکل جنم لیتی ہے جس سے میں دوبارہ پہلی حالت سے ترقی شروع ہوتی ہے۔

یہ نظریہ خیالات کی ایک عجیب شکل ہے جسے تصوراتی کہا جا سکتا ہے۔ سائنس اور تاریخ سے ہمیں ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے۔

سائنس ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک چھوٹے درجے کی نوع اپنے سے بڑے درے کی نوع میں ارتقا حاصل کر سکتی ہے لیکن کبھی بھی ایک نوع نے اپنے سے مختلف نوع کی ارتقائی شکل حاصل نہیں کی ہے۔ ایک شیر کبھی دنبہ اور نیک فطرت بکری کبھی بھیڑیا نہیں بن سکتی۔ اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کبھی بھی خودبخود اپنے مخالف سماجی نظام میں تبدیل نہیں ہو گا۔ پیداوار کے ہر انداز کی بنیاد ریاضی، جیومیٹری یا مختصر یہ کہ عمومی ٹیکنالوجی پر ہے۔ پہلے انسان کو اوزار ایجاد کرنے اور بنانے پڑتے تھے۔ یہ اوزار وجود میں آنے کے بعد انسانوں کو محدود حد تک متاثر کرتے تھے۔ یہ بات دنیا اور خواہش کے درمیان تعامل کو ظاہر کرتی ہے۔

مارکس ہیگل کا تھیسز، انیٹی تھیسز ، سنتھیسز کا نظریہ اپنی ترقی اور اس قوت ارادی کی جو کچھ ہو اس سے محروم کرنے کے لیے موزوں ہے یہ وجہ ہے کہ رجعتی ہے۔ اشتراکی منشور اور سرمایہ رجعت پسندانہ نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔

اشتراکی منشور

اشتراکی منشور سماجی جمہور کی انجیل مقدس ہے۔ وہ اسے تمام تر دانائی کی علامت خیال کرتا ہے اور اس کے انقلابی مواد کا قائل ہے۔ تاہم یہ نظریہ تنقیدی جائزے پر پورا نہیں اترتا اور صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ تمام سماجی جمہوریت پسند جو اشتراکی منشور پر حلف اٹھاتے ہیں وہ رجعتی اور انقلابی اصطلاحات میں فرق نہیں کر سکتے۔ سب سے پہلے یہ بات نوٹ کی جانی چاہیے کہ اشتراکی منشور مارکس اینگل کا اصلی کام نہیں ہے بلکہ شکل اور مواد میں فرانسیسی فوریرسٹ وکٹر کنسیڈرنٹ کے کام کا چربہ ہے۔ مارکس اینگل نے اس کے خیالات کو اختیار کیا، اس کے نظریات کو خاص انداز میں بیان کیا۔ لیکن یہ مارکس کے نظریات کا جامع اور واضح ترین خلاصہ ہے۔

بروشر کے پہلے حصے میں سرمایہ دارانہ معاشرے کو بورژوائی اور پرولتاری میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اس تقسیم کو طبقاتی کوش کا نتیجہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ ایک قابل ذکر حقیقت ہے کہ پہلے سبق کا زیادہ ترحصہ درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام کی مبینہ کامیابیوں کی مدح سرائی کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں شہروں کے دیہاتوں کی جگہ لے لینے کی تعریف کی جاتی ہے۔ اس بات کو بھی سراہا گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے دیہاتی آبادی کی حماقتوں کا بڑا حصہ چھین لیا ہے۔ یہ غلط ہے کیونکہ آج بھی شہر مکمل طور پر دیہاتوں پر انحصارکرتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر یہ غلط ہے کیونکہ شہروں میں پرولتاری فیکٹریوں کا غلام ہونے کی بے وقوفی جو دیہاتوں کی زراعت میں مزدوری سے کم نہیں اور اسی طرح ایک صنعتی یا تجارتی بورژوائی کی تنگ نظری دیہاتی فصلوں کے مالک نواب سے کم نہیں ہے۔ دیہاتوں کی قدرتی زندگی شہری زندگی سے زیادہ قابل ترجیح ہے۔ اس لیے سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال سراہنے کے لیے قابل مذمت ہے۔ پھر لغوی طور پر اس طرح کہا ہے بورژوائی کیطرح دیہات شہر سے اس سے وحی اور نیم وحشی دیہاتی بنا دیئے ہیں جن کا انحصار تہذیب پر ہے۔ کسانوں کا بورژوائی لوگوں پر ، مشرق کا مغرب پر۔

یہ بات سرمایہ دارانہ ریاستوں کی سامراجی سیاست کو واضح طور پر جواز بخشتی ہے۔ بیسویں صدی میں ہونے والی دو عدد عظیم جنگیں اور ان کے بعد والی 2020 تک سرد جنگوں سے ہمیں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے نام نہاد مہذب کو وحشی پن میں کوئی پچھاڑ سکتا ہے۔

جو کچھ مارکس نے کہا ہے حقیقت اس کے خلاف ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے انسانیت کو خوفناک حد تک پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اگر اس کی موجودگی جاری رہتی ہے تو یہ لوگوں میں آخری کچھ بچ جانے فطری طبیعت، باہمی امداد اور آزادانہ یک جہتی کے لیے خطرہ ہو گی۔ یہ خصوصیات جو سماجیات کے لیے ضروری ہیں قدیم دور کے انسانوں میں زیادہ بہتر تھیں مارکس کے تمام نظریات بہت زیادہ رجعت پسندانہ ہیں۔

اشتراکی منشور کا دوسرا حصہ نسبتاً زیادہ بہتر ہے۔ لیکن اس لیے نہیں کہ یہ اشتراکیت کی ساخت کو بیان کرتا ے جس کے لیے پورے منشور میں کوئی لفظ نہیں ہے۔ لیکن اسی طرح اچھے دلائل کی وجہ سے اور اشتراکیت کے خلاف بورژوائی اور سرمایہ دارانہ بیانات اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے برعکس اس میں کوئی مقصد یا اشارہ نہیں ہے۔

سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ اشتراکیت پسندوں کا اگلا مقصد پرولتاریوں کو ایک جماعت بنانا (جیسے یہ اس سے پہلے جماعت نہ ہو) بورژوائی تسلط کاخاتمہ اور پرولتاریوں کے ذریعے سیاسی طاقت پر قبضہ۔ لیکن بعد میں اشتراکی انقلاب کو روایتی ملکیتی  نظام کی بنیادی توڑ پھوڑ کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے مطلب کی وضاحت کی بجائے اچانک یہ بات بیان کیجاتی ہے کہ کارکنوں کے انقلاب کا مرحلہ پرولتاری کو حکومتی سطح کی جماعت پر لے جانا جمہوریت سے لڑائی ہے۔

سب سے پہلے جمہوریت کا مطلب بورژوائی ذرائع لیا جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ سابقہ انقلابوں کی تاریخ سے ہمیشہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور جرمنی کی معاشرتی جمہوری حکومت کے تجربات ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمیشہ انقلاب کے بعد آنے والی جمہوریت روگردانی کرتی ہے۔ رہنما جملوں میں ہی تضادات اور خود تردیدی شامل ہیں، لیکن کوئی اشتراکیت نہیں ہے جیسا مارکس اسے دیکھتا ہے۔ یہ ہرگز اشتراکیت نہیں ہے۔

جبکہ آج اشیا کے بنانے والے پیداواری آلات کے سلسلے میں نجی سرمایہ داروں پر انحصار کرتے ہیں، مارکس کی ریاست کی بھی یہی حالت ہو گی۔ طاقت جس کی لوگوں کی زندگی اور موت پر حکومت ہو گی۔ پرولتاری پرولتاری نہیں رہیں گے کیونکہ ان کے پاس پیداواری ذرائع کی ملکیت نہیں ہوتی۔ اشتراکی منشور فرض کرتا ہے کہ ریاست بتدریج خودبخود تحلیل ہو جائے گی۔ یہ مفروضہ فطرت اور معاشرے کے تمام تجربات کے خلاف ہے۔ ایک قسم کبھی اپنی مخالفت میں نہیں جاے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست دباؤ اور استحصال جیسے ذرائع استعمال کرتی ہے وہ کبھی آزاد لوگوں کا معاشرہ نہیں بن سکتی۔ ایک ریاست کبھی خود کشی نہیں کرتی بلکہ یہ بڑھتی ہوئی طاقت اور دباؤ لانے والا عامل بن جائے گی۔ ہزاروں ثبوت دیئے جا سکتے ہیں کہ کس طرح ہر حکومتی شکل اپنی بقا کو قائم رکھنے اور خاتمے سے بچنے کے لیے پوری طاقت سے لڑتی ہے۔ نوسکی وزم اور بوشلوزم نے بھی تمام دفتری، سیاسی اور قانونی دفاتر کو بالکل اسی طرح برا بھلا کہا جس طرح دوسری حکومتی اشکال ہیں۔ جماعتی اور تجارتی اتحادوں کی بڑی  بااثر شخصیات ریاستی طاقتیں ہیں۔ وہ سمای ریاست میں آمر ہیں۔ لیکن حال میں سرمایہ دارانہ نظام کی شکل میں وہ اپنی جماعت کی شکل بناتے ہیں جو پرولتاریوں کے مفاد کے خلاف کام کرتی ہے یا مسلسل اس کی طاقت کو روکتی رہتی ہے۔ وہ خود اسے تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے وہ سماجی ریاستی معیشت میں اس کے خاتمے کے لیے کام نہیں کریں گے کیونکہ ریاست کی موت کے ساتھ ان کی تمام سہولیات اور حکومتی عہدے ختم ہو جائیں گے۔ آخر میں اشتراکی منشور کے اطلاق کے لیے کچھ تدابیر پیش کرتا ہے لیکن وہ سب رجعتی ہیں بشمول

1۔ حکومتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے جائیداد کے کاروبار میں مالکان کو ان کی ملکیت سے محروم کرنے سے کیا جاسکتا ہے۔ فاقہ زدہ پرولتاری کے پاس ایسا کچھ نہیں۔ مارکس کے مطابق انہیں زمین کی کاشت کے لیے بڑے حکومتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی پنشن دینی چاہیے۔

2۔ بڑا ترقیاتی ٹیکس۔ رقم اور ٹیکس کے نظام قائم رکھا جائے اور یہ سرمایہ دارانہ ہے نہ کہ سماجدارانہ۔

3۔ ریاست کے حق میں وراثتی قانون کا خاتمہ تاکہ ہر چیز مملوک ریاست کے لیے ہو نہ کے عوام کے لیے۔

4۔ تمام مہاجرین اور باغیوں کی جائیداد کی ظبطی اور جو کوئی بھی ریاستی آمروں کی تدابیر سے متفق نہ ہو اسے ریاست کے حق میں اس کی جائیداد سے محروم کر دینا۔

5۔ خصوصی اجارہ داری کے ذریعے کریڈٹ کا ریاست کے ہاتھوں میں موجود قومی بینک میں مرکوز ہونا۔سماجی نظام میں کسی بینک کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف سرمایہ دارانہ نظام میں۔ لیکن وہاں بھی اجارہ داری سب سے بڑی برائی ہے۔ اجارہ داری عام معیشت کی ضد ہے اور سماجی نظام کی بھی۔

6۔ ذرائع نقل و حمل کا ارتکاز۔ کارکن اور عوام اس نظام کے ریلوے اور ڈاکخانوں میں اس کے عوام مخالف اثرات سے کافی حد تک آگاہ ہو گئے ہیں اور آئے روز ان کی آگہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

7۔ صنعتی اور زرعی افواج کی تشکیل کے ذریعے ہر کسی کے لیے کام ضروری کرنا۔ تمام معاشی زندگی کا فوجی بنانا۔

اشتراکی منشور کے مطابق سماجدارانہ نظام میں ایسا نظر آئے گا۔ منتخت رہنما، حکام اور حکومت پیداواری کام سے آزاد ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد زیر اسلحہ اور طاقت حکم پر کام کرتی ہے جیسا کہ آجکل قیدخانوں، بیرکوں اور خانقاہوں میں ہو رہا ہے۔ یہ رجعت پسندانہ خیالات اصلی اور نئے نہیں ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ سے تین صدیاں قبل لیٹفنڈیا کی انتظامیہ قدیم روم کی بڑی تباہ حال جائیدادوں پر غلاموں کے گروہوں کے ذریعے زرعی سرگرمی سر انجام دیتی تھی۔

اسی طرح قبل از تاریخ خوفناک حالات کی طرف واپسی نظری مارکس ہو گی اور جس طرح اس وقت روم کی تباہ ہوئی تھی اسی طرح یہ پھر انسانیت کی غلامی اور زوال ہو گا۔

پورے اشتراکی منشور میں اجرتی نظام کے ترک کرنے کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے۔ مارکس اینگل انسانی محنت کے لیے معاوضے کو ہر گز زیر بحث نہیں لاتا۔ یہ بات ایک بار پھر قابل فہم ہے کہ سوال کے جائزے کی صورت میں دو آراء آئیں گی جن میں سے کوئی اس مناسب نہیں لگی ہو گی۔

یا تو معاوضے کی بنیاد انجام شدہ کام پر ہونی چاہیے۔ یہ ممکن نہ ہو گا کیونکہ ریاست پیداوار دینے والوں کو کبھی ان کی پوری اجرت نہیں دے گی کیونکہ انہیں اس اجرت کا بڑا حصہ اسے قائم رکھنے کے لیے استعمال کرنا پڑے گا۔ یا یہ کہ معاشرے کے تمام افراد کو خوراک، لباس اور دوسری ضروریات مہیا کی جائیں جو کہ اشتراکی ہے۔

تاہم موخر الذکر صورتحال میں ضروری ریاست ریاست محض ایک حماقت ہے کیونکہ معیشت کے جبری ذرائع جیسا کہ بھوک کے خطرے میں اشتراکی ریاست اپنی مرضی کو انتشاری اقلیتوں پر مسلط نہ کر سکے گی اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو وہ اشتراکی نہیں بلکہ موجودہ حالت میں استحصالی ہو گا۔ ان حقائق کو واضح نہ کرنے کی صورت میں مارکس کو اس بارے میں خاموش رہنا چاہیے تھا اور باقی ہر ترقی کی راہ میں چھوڑ دینی چاہیے تھی۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مارکس نے اصل اشتراکی نظام کی بجائےایک غلط اشتراکی نظام بنایا۔

جبکہ اشتراکیت بورژوائی معاشرے کے تمام بنیادی اجزا اور اس کی پیداواری شکل اور حالات کے وجود کی تردید کرتی ہے۔ قومی معیشت ان کی وضاحت کرتی ہے اور انہیں جواز دیتی ہے اور اس نقطہ نظر سے باقاعدہ طریقے سے انہیں فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے۔

قومی ماہرین معیشت کی یہ دانشورانہ سرگرمی ہے، ایسا کہنا چاہیے کہ وہ حکومتی نظام کی جعلی جمع خرچ کے صفحات کا حساب رکھنے والے ہیں۔ اگر مارکس کے نظریات سماجیات کی ترقی میں ایک بہت بڑا لڑکھڑاتا ہوا بلاک ہیں جو اسے ریاستی آمریت کی حاکمیت اور تشدد تک گرا دیتے ہیں جو کہ ثقافت کے برعکس ہے بلکہ یہ قومی معیشت پر سرمایہ دارانہ نظام کے قبضے کی ایک قدم پر مزید پسپائی اختیار کرتے ہیں اور جنہوں نے اشتراکیت پر زور دے کر اشتراکیت کو قومی معیشت میں ضم کر دیا ہے۔

اس طرح نے اپنی منطق اور سٹے بازی کی بنیاد پر کمرشل الفاظ مخصوصہ میں معاشرتی آزادی کے تصور کی بنیاد بنایا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ بات اکثر درست ہوتی ہے کہ دشمن کو اس کی خیمہ گاہ میں تلاش کر کے مارنا چاہیے۔ مارکس نے بھی ایسا ہی کیا لیکن وہ قومی معیشت میں پھنس گیا۔ اس میدان میں دیئے گئے سابقہ بے سوچ جوابات قومی معیشت کے نقطہ نظر سے اصلاحات کے لیے اس کی تعلیمات محدود ہیں۔ بلکہ مارکس سے بہت پہلے دوسرے عالم ایسا کر چکے تھے اس لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔ مارکس نے پہلے سے موجود ماہرین عمرانیات کے کام کو نہیں بڑھایا بلکہ وہ ایک عظیم ماہر معیشت تھا اور وہ ایسا ہی رہا۔

موجودہ اشتراکیت مارکس سے پہلے بورژوائی قومی معیشت کو نا منظور کر چکی تھی۔ یہ کام بنیادی طور پر فوریر اور پرودھن نے کیا۔ اس وقت اس بات کی ضرورت ھی کہ موجودہ اشتراکی نظریات کو مزید فروغ دیا ائے لیکن مارکس ایسا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ باکونین صرف وہ فرد واحد تھا جس نے اس کام کو مکمل کیا جس وجہ سے مارکس نے اس کی شدید مخالفت کی۔ "سرمایہ" میں مارکس رقم کے تصور کے ظہور کی پیشگی شرط کو بیان کرنے میں ناکام رہا۔ اس نے سادہ طور پر صرف اسی تصور کو گنا۔ اس طریقے سے اسے اس نتیجے کی طرف نہیں آنا چاہیے تھا کہ حکومتی ادارے اور افراد کی اجارہ داری سرمائے کی تخلیق کی پیشگی شرط ہیں۔ مارکس کے مطابق سرمایہ دار جماعت کے پاس استحصال اور غلام بنانے کا امکان موود ہوتا ہے کیونکہ پیداواری ذرائع اس کی ملکیت میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ قریب النظری ہےکیونکہ اس وقت اشتراکی نظریات بہت عام ہو گئے تھے۔ مارکس اینگل نے ریاستی سرمایہ دارانہ سکے کو غلط طور پر رجعتی رخ دینے کی کوشش کی۔ "اشتراکی منشور" ۔ کیونکہ معاشرتی جمہوریت نے ان نظریات کو تسلیم کر لیا ہے۔ کارکنوں نے اصل کو فراموش کر دیا اور سرمایہ دارانہ معیشت کی اشتراکی معیشت میں منتقلی ان انتہائی مشکل ثابت ہو رہی ہے۔

حصہ سوم: سرمایہ

سرمایہ کو عام طور پر معاشرتی جمہور کی کتاب مقدس گردانا جاتا ہے اور یہ بات منطق کے برخلاف نہیں کیونکہ یہ ایک موٹی چیز ہے جسے سمجھنا مشکل ہے اور تمام ممکنہ اطراف میں اس کی تشریح کی جا سکتی ہے۔ یہ بہت کٹر اور غیر سائنسی چیز بھی ہے۔ مارکس اسے سیاسی معیشت کی تنقید کہتا ہے جس کے ساتھ وہ انگریزوں کا طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کے لیے جرمنی میں زیر استعمال اصطلاح "قومی معیشت " سے پر ہیز کرتا ہے۔

اس لفظ میں ہی بہت بڑا چکمہ ہے۔ یہ معیشت ایسی نہیں ہے کہ جیسے کوئی اسے محض ایک لفظ میں سب لوگوں کے لیے فائدے کے طور پر پیش کرتا ہے بلکہ یہ ایک چھوٹی سی مستفید اقلیت یا سیاسی گروہ کے لیے مفید ہے۔ قومی معیشت کو استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو جواز دینے کی کوشش کے طور پر دیکھنا ہے۔

ایک پوری طرح جوان درخت کو نکالنے کی اوسط عمر650 سے 1100 ڈالرز کے درمیان دیکھی جا سکتی ہے جس کا انحصار درخت کی قسم اور بلندی پر ہے۔ ایک شاہ بلوط کے درخت کو نکالنے کی اوسط قیمت 950 ڈالر، صنوبر کے درخت کے لیے 1100 ڈالرز اور زیتون کے درخت کو نکالنے کا خرچ 650 ڈالر ہے۔ اگرچہ سب سے پہلے ان تمام درختوں کے گرانے میں تقریباً برابر کام کی ضرورت ہے لیکن اس کے بعد صرف کچھ افراد کو چند گھنٹے ان کی مزید کٹائی اور چھلائی کا کام کرنا ہوتا ہے۔ درخت میں شامل انسانی محنت کی قیمت تقریباً مٹھی بھر درجن ڈالرز سے زیادہ ہے۔ لیکن اصل میں سرمایہ دارانہ سٹے بازی/اندازہ نسبتاً بہت زیادہ کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ مارکس فرض کرتا ہے کہ چیز کی قیمت نہ صرف پیداواری تعلق بلکہ تبادلہ تعلق سے متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں دماغی کام کی پیدائش کبھی نہیں ہو سکتی۔ خاص طور پر ہر چیز میں شامل دانشورانہ کام کی۔ سرمایہ دار کسی بھی چیز کو اس کی بڑھوتری کے لیے کئے گئے کام کے مطابق نہیں بلکہ اس کی ضروری پیداواری قیمت اور منافع کے مطابق خریدتے یا فروخت کرتے ہیں تاکہ صرف قدر ہی اس کی اصل قیمت ہو اور باقی چیزیں جو مارکس نے اس میں بیان کی ہیں شاعری اور حقیقت میں ان کا وجود نہیں۔

تاہم مارکس کا دعویٰ کہ کام تمام چیزوں کی قیمت متعین کرتا ہے سرمایہ دارانہ نظام کے لیے ایک خوشامدانہ رعایت ہے جسے وہ بنیادی طور پر اسے اشتراکی خوشی دکھاتا ہے کیونکہ اگر سماجی کام تمام چیزوں کی قیمت کا پیمانہ ہے تو پھر یہ قیمت قابل جواز اور معاشرے کے تمام افراد کے لیے ایک جیسی ہونی چاہیے۔ اس طرح مارکس کا نظریہ سرمایہ دارانہ تصور کے لیے مناسب ہے اور استحصال کے لیے معذرت۔ بدترین چیز جو مارکس نے منتقل کی وہ اس کا قیمت کا ریاستی سماجی معاشرے کا نظریہ ہے۔ اشتراکیت کے لیے مارکس کے بیانات مکمل طور پر بے سود اور غیر مناسب ہیں۔

اس کے لیے تنہا ملکیت کافی نہیں ہو گی جب تک ایسی طاقتیں نہ ہوں۔ سرمایہ دارانہ نظام جائیداد پر بہت زیادہ دعویٰ کو یقینی نہیں بناتی ہیں۔ اگر معاشرے میں صرف ایک ایسی تنظیمی طاقتور اور شدید تنظیم موجود ہے۔ ریاست جو کہ پیداواری ذرائع پر ملکیت کے ذریعے استحصال کر سکتی ہے۔

مای میں صرف یہ ایک ایسا واحد شدت پسندانہ ادارہ تھا س نے ماضی میں غلامی، دور وسطیٰ میں غلامی اور موجودہ دور میں اجرت کی ادائیگی کو ممکن بنایا۔ یہ سب استحصال کی مختلف اشکال ہیں جن میں سے اول الذکر سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ لیکن مارکس کو ان میں سے کسی سے بھی تشویش نہیں ہے۔ اس کے لیے استحصال صرف پیداوار کے عمل کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اس نے غلط نظریے کہ کارکن اپنی چیزوں کو بیچنے میں آزاد تھے سراہا۔ یہ غلط فہمی وضاحت کرتی ہے کہ مارکس اور اس کے حامی آزادی کے بارے میں ایسے غلط نظریات کیوں رکھتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ کارکن آزاد نہیں ہے۔ کاروباری منتظم کے برابر نہیں ہے بلکہ اسے اس کی پیدائش سے بھوک کے چابک کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ اسے اپنی چیزیں بیچنی ہیں۔ یہاں مارکس کے نظریات میں واضح طور پر بنیادی غلطی ہے۔

سرمائے کا بنیادی عقیدہ قدر کا نظریہ ہے۔ مارکس کا بھی دعویٰ ہے کہ انسانی محنت تمام چیزوں کی قدرو قیمت متعین کرتی ہے۔ مارکس نے ابتدائی طور پر چیزوں کو بنانے اور ان کی پیداوار کا کام شروع کرنے سے قبل سرمایہ دار سے اجازت کا پیشگی حصول اور اس میں شامل سابقہ نسلوں کا ابتدائی تعمیری کام جیسی حقیقت کو نظر انداز کیا ہے۔ ایک قطعہ زمین جو غیر استعمال شدہ ہے اور جس پر کوئی انسانی کام نہیں ہوا کی قدروقیمت بے وقعت نہیں ہو جاتی۔ بلکہ کسی جگہ زمین بغیر کسی تعمیری کام کے اکثر اسی کے برابر تعمیر شدہ زمین سے بہت زیادہ مہنگی ہوتی ہے کیونکہ اس میں مقامی حالات اور سرمایہ دارانہ سٹے بازی کا فیصلہ کن کردار ہوتا ہے۔ چیزوں کی قیمت اکثر ان کی اصل وقعت سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیویار (بڑی مچھلیوں کے انڈوں کا اچر) ہیرنگ مچھلی کے اچار سے بہت زیادہ مہنگا ہوتا اگر اس میں شامل انسانی قیمت اس کی قیمت متعین کرتی۔ مصنوعی جیم سٹون کی پیداوار کے حصول کے لیے اصل جیم سٹون کی رگڑائی کے کام سے بہت زیادہ رگڑائی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پھر بھی اصل پتھرمصنوعی پتھر سے بلا موازنہ زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ آج آدمی روزانہ یہ مشاہدہ کر سکتا ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشت میں چیز کی قیمت اس چیز میں شامل کام کے تناسب میں کتنی کم ہے۔

قیمت کے تمام تصورات جنہیں ہم آج جانتے ہیں وہ سب سرمایہ دارانہ اصطلاحیات ہیں۔ ہوا، سورج کی روشنی، زمینی نمی، حبس اور مختصراً پیداوار کے بہت سے عوامل کیونکہ ان پر اجارہ داری نہیں ہو سکتی اور اب وہ سرمایہ دارانہ طور پر بے وقعت ہیں اور پھر بھی معاشرے میں انکی قدروقیمت سب سے زیادہ ہے۔ اشتراکی معاشرے میں بھی یہی چیز ہے جہاں پر پیداوار اور زندگی کی سب چیزیں ہیں کیونکہ ہر معاشی انبار  کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ہر کسی کے لیے تنہا آزادانہ پیداوار یقینی ہوتی ہے۔ پیداوار کے ذرائع کی ملکیت کے تصور کے خاتمے سے قیمت کا انفرادی تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔

اگر آپ سرمایہ دارانہ استحصال کی نا انصافی کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو مارکس کے قدر کے نظریات کے غلط اور نقسان دہ استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سادہ حقیت کہ اگر کسی پیداوار کو اس کی اصل قیمت کی بجائے بہت زہادہ قیمت پر بیچا جائے تو یہ اس استحصال اور دھوکہ دہی کے امکان جس اک پرولتاری کو سامنا ہے کا اندازہ لگانے کے لیے واضح طور پر کافی ہے۔

مارکس کے نظریے کی باقی دوسری بدعتیں اب اس کے غلط نظریہ قدر کی پیروی کرتی ہیں۔

حصہ چہارم: اضافی قدر کی تعلیمات

اس نظریے کے ساتھ ہم مارکس کے نظریے کے سب سے زیادہ اہم پہلو کی طرف آتے ہیں۔ اس کے ساتھ  مارکسکو یقین تھا کہ اس نے سرمایہ دارانہ استحصال کا راز دریافت کر لیا ہے۔ اسی دوران بورژوائی قومی ماہرین معیشت کافی عرصے سے(سرمایہ دارانہ نقطہ نظر سے، یقیناً) ثبوتوں کے ساتھ اضافی قیمت کے اصول کہ اضافی قیمت کا جواز بنتا ہے کیونکہ یہ تشہیری کام اور سرمائے کے خطرے کو ختم کرنے کے معاوضے کو پیش کرتی ہے کی تردید کر چکے ہیں۔ اس نظریے میں ایک بار پھر صرف صنعت سے شروع کیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک مزدور کو یومیہ اجرت کے لیے کام کرنا پڑتا تھا جو کہ سرمایہ دار مارکس کے لیے پھر بھی غلط نہیں ہے۔ تاہم کاروبار منتظم نے اگر کارکن کی یومیہ اجرت بنائی ہے تو وہ اسے 5 یا 6 گھنٹے کے اوربعد برخاست نہیں کرتا بلکہ اس کے کام کو 10 سے 12 گھنٹے تک لے جاتا ہے۔

یہی فرق اضافی قیمت ہے جو کاروبار منتظم لے لیتا اور عین اسی وقت استحصال ہو جاتا ہے۔ مارکس کے نظریے کے مطابق بڑھتے ہوئے یومیہ کام کے اوقات کے ساتھ استحصال بڑھتا جاتا ہے۔ ہم ایسی سوچ کو صرف مضحکہ خیز غیر دانشمندانہ کام کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کام کے اوقات میں پہلے گھنٹے سے آخری گھنٹے تک مزدور کا استحصال ہوتا رہتا ہے۔ مارکس کے مطابق کام کے اوقات میں کمی سے استحصال میں کمی واقع ہو گی۔ ہم جانتے ہیں کہ کارکنوں کے یومیہ کام میں مسلسل کمی کے باجود سرمایہ دارانہ منافع کم نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے برعکس ہوا۔ کاروبار منتظمین اور ان کے حصہ داروں کے منافع اور ان کے حصہ داروں کی رقم میں لگاتار اضافہ ہوا۔ اضافی رقم کی تمام تعلیمات غلط ثابت ہو گئی ہیں۔ اپنے اس سبق میں مارکس اضافی قیمت کے غلط نظریے سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اگر کام کرنے والی طاقت کا پہلا سب سے اہم کام مناسب یومیہ کام کے وقت کا تعین ہے۔ پارلیمان میں حصہ لے کر پرولتاریوں کو ریاست کی طرف سے مقرر کردہ کام کے زیادہ سے زیادہ اوقات پر عمل کرنا چاہیے۔ کام کے اوقات میں بتدریج کمی سے اضافی قیمت زیادہ سے زیادہ کم ہو گی اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہو گا۔ صرف خوش قسمتی کے ساتھ مارکس کے تجویز کردہ کام کے اوقات کے بارے میں قانونی معیار کا انتظار کیے بغیر براہ راست عمل کرتے ہوے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا کہ مارکس کو "سرمایہ" میں خود تسلیم کرنا پڑا تھا کہ انگلستان میں کارکنوں/مزدوروں کے بارے میں قوانین خراب ہو گئے تھے۔ صرف کارکن خود ہی اپنے براہ راست عمل کے ذریعے انہیں بہتر کر سکتے تھے۔

ہم صنعتی مزدور جانتے ہیں کہ دھوکہ دہی استحصال کی واحد شکل نہیں ہے بلکہ پرولتاری کا استحصال بذریعہ تجارت، نقل و حرکت، جائیداد، سود اور ریاست کی طرف سے عائد کیے گئے کی طرح کے محصولات کے ذریعے کیا جاتا  ہے۔ مارکس اس حقیت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ اضافی قیمت کو سب سے پہلے برآمدات کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے جو کہ ریاست کو سامراجیت کی طرف دھکیلتا ہے۔

اس طرح پرولتاری کے استحصال کی اضافی قیمت کے اصول کے مطابق تشریح نہیں کی جا سکتی۔ یہ عین اسی طرح غلط ہے جس طرح نظریات۔

مارکس کا خرابی کا نظریہ

اسی کے ساتھ مارکس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو اپنی پیداواروں کی قائم معاشی قوانین کی بنیاد پر چھوڑ دینا چاہیے۔اگر یہ بات درست ہوتی تو بہت اچھا  ہوتا مگر یہ درست نہیں ہے بلکہ غلط ہے۔ تاہم ایسی تسلی کارکن کو طبقاتی کوشش پر لگائے رکھنے کے لیے موزوں ہے۔ یہ تقدیر کی طرف لے جاتا ہے اس لیے جرم ہے۔ نظریہ خرابی مزید تو حصوں میں ٹوٹ جاتا ہے۔

نظریہ غربت

اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ ترقی کارکن کی حالت کو مزید بدتر کرتی ہےاور اس کے ساتھ صنعتی محفوظ فوج جو کہ بے روزگاروں کی فوج ہے جس میں اضافہ ہو گا۔ مارکس کےاس نظریے کے مطابق صنعتی ترقی کے 50 سے60 سال میں صنعتی محفوظ بن جانی چاہیے لیکن درحقیقت اس میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس کی تعداد مخصوص فیصد میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔

مارکس نے اس حقیت حقیقت کہ سرمایہ دارانہ نظام جو جب خطرہ ہوتا ہے کہ جب بے روزگاروں کی فوج اتنی بڑھ جائے گی جس کا نام جنگ ہو گا تو یہ ایک ذریعہ استعمال کرتا ہے کو نظر انداز کیا۔ یہ ذریعہ صنعتی محفوظ فوج کو کم کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر کسی بھی طرح غربت صحیح ہے جو کہ ثابت ہو چکا ہے کہ غلط ہے تو صورتحال ایسی نہیں ہے۔ یہ مناظر کبھی بھی سماجی نظام کی طرف رہنمائی نہیں کرتے بلکہ اس سے زیادہ دور کر دیتے ہیں۔

ایک پرولتاری جو اتنا غریب ہو وہ غالباً سرمایہ دارانہ نطام کو توڑے گا لیکن کبھی بھی اس کی سماجی تعمیر کو پورا نہیں کرے گا۔ اس لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ نظریہ غریب محض ایک تخیلاتی ویرانہ ہے۔

ٹوٹ پھوٹ یا خرابی کے نظریے کا دوسرا حصہ ارتکاز ہے۔ اس نظریے کے مطابق مارکس دعویٰ کرتا ہے کہ سرمایہ صرف چند ہاتھوں میں مرکوز ہے اور متوسط طبقہ بتدریج غائب ہو رہا ہے۔ سرمایہ دار اسے کھا رہے ہیں اور آخر کار سرمایہ دار طبقہ اسے آپس میں زیادہ سے زیادہ تباہ کر دے گا۔ اس نظریہ ارتکاز سے مارکس نے بھی سماجی ریاست کے لیے مرکزی رحجانات کو اختیار کیا۔ یہ رحجانات بھی اسی طرح غلط ہیں جس طرح پورا نظریہ۔ اس کے غلط نظریات کے منطقی انجام کے طور پر مارکس خیال کرتا ہے کہ تمام متوسط طبقہ کی تباہی ضروری ہے۔ اگر وہ تسلیم کرتا ہے کہ متوسط طبقہ سرمایہ دارانہ معیشت میں مزدور طبقے سے زیادہ بہتر اور آزاد رہتا ہے۔ آخر میں اس مغالطہ میں کہ عالمی جنگ سرمایہ کے ارتکاز میں ایک ضروری مرحلہ ہے وہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ مارکس کے نظریات کے نتائج کس قدر خوفناک ہیں اور مکمل طور پر غلط ہیں۔ درحقیقت اس کے برعکس درست ہے سرمایہ دار اور متوسط طبقہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، استحصال کنندگان کی تعداد کم نہیں ہو رہی بلکہ بڑھ رہی ہے۔ روسی  نے خاص طور پر انگلستان کے لیے Tscherkeseffعالم

اسے ایک شاندار طریقے سے پیش کیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کے لیے مارکس نے اپنی تمام سائنس اخذ کی ہے۔ اس کے مطابق 1815 میں انگلستان میں صرف 39569 لوگوں کی آمدنی 3000 مارکس سے زیادہ تھی جبکہ 1907میں یہ تعداد 568092 ہو گئی جو کہ 14.3 گنا زیادہ ہے جبکہ آبادی اسی دوران صرف دوگنی ہوئی تھی۔

1907 میں چھوٹے سرمایہ دار 1815 کی نسبت 16.8 گنا اور بڑے سرمایہ دار اسی دوران 11.3 گنا زیادہ ہوئے تھے۔ تمام ممالک میں اسی طرح کی ترقیاں تھیں جیسا کہ پروزیا میں لاکھ پتی لوگوں کی تعداد 1895سے 1911 تک 5306سے بڑھ کر 9431 ہو گئی۔ امریکہ میں جنگ عظیم کے آغاز 1914 سے 1924 تک لاکھ پتی لوگوں کی تعداد 4000 سے بڑھ کر 20000 ہو گئی تھی۔ ان حقائق کے ساتھ دولت کے ارتکاز کے نظریہ کی تردید ہو گئی اور مارکس کا ٹوٹ پھوٹ کا نظریہ خود تصادم کا شکار ہوا۔

مارکس کے ارتکازی نظریات کے تناظر میں اس کے نظریات کی غیر سائنسی فطرت واضح ہو گئی کیونکہ مارکس نے اپنی تمام تحقیقات/مطالعات میں زراعت کو شامل نہیں کیا۔ ایسا کر کے مارکس نے معیشت کے بنیادی نظریے کو نظر انداز کر دیا اور اس وجہ سے اس کے تمام مفروضوں کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی۔ صنعتی سرمایہ صرف ایک ثانوی منظری ہے جبکہ زرعی پیداوار تمام پیداوار کی بنیادی شکل ہے۔ سب سے پہلے لوگوں کو کھانے کی ضرورت ہے اور وہ صرف زرعی پیداوار سے ممکن ہے صرف اس کے بعد ہی وہ کپڑا بنائی، مشین سازی اور دوسری چیزیں بنا سکتے ہیں اور آخر میں پیدا وار کے تمام ذرائع جیسا کہ گھر، مشینیں، خام مال سب کی ابتدا زراعت میں ہے۔ مارکس نے اپنے لیے بہت سی چیزیں آسان کر لیں۔ اس نے مبینہ سرمایہ دارانہ رحجان نظر انداز کیے بغیر زراعت سے منتقل کر لیا۔ تاہم زراعت میں یہ بات صنعت کی نسبت زیادہ واضح ہے کہ یہ مبینہ رحجان ایک کہانی ہے۔ زراعت کی ترقی ہمیں دکھاتی ہے کہ زراعت میں بڑے پروجیکٹ تنزلی کا شکار ہیں جبکہ چھوٹے پروجیکٹ ترقی کی جانب گامزن ہیں اور تمام ممالک کے ساتھ ایسا ہی ہے۔ مثال کے طور پر 1907 میں پیشہ ورانہ مردم شماری/جائزہ ہمیں دکھاتا ہے کہ چھوٹے ٹکڑوں کی تعداد (جوکہ 2 ہیکٹر سے کم)1893سے تقریباًً 142000 زیادہ وہ گئی۔ چھوٹے فارم (2.5 ہیکٹر)1000 کی کمی ہوئی۔ تمام جب صرف اصل متوسط طبقہ کسان (20/5 ہیکٹر) پورے 67000 بڑھ گئی۔ اس کے برعکس وسعی رقبے فارم (100/20 ہیکٹر) میں 20000 کی کمی واقع ہوئی اور بڑے ملکیتی رقبوں (100 ہیکٹر زیادہ) میں 1500 یا جرمنی کی بڑی ملکیتی زمینوں میں 6 فیصد کمی واقع ہوئی۔ بارہ سال کی اصل ترقی، ایسی ترقی جو مارکس کے نظریات کو منہ پر مارتی ہے۔ دوسرے ممالک جیا کہ ہنگری میں ایسی ہی ترقی وسیع حد تک ہو رہی ہے۔ تمام ممالک میں زراعت چھوٹے کاروباروں کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

1920 میں چین میں کس قدر عقلمندی کے ساتھ چھوٹے کاروبار سے کام لیا گیا جہاں زمین کو بڑے لوگوں کے تمام خاندان میں تقریباً برابر تقسیم کیا گیا جہاں کھیتوں میں زرعی کام ضرورت سے زائد تھا اس لیے عقل مندانہ باغبانی کو فروغ دیا گیا جس سے ایک ہیکٹر نے 10 لوگوں کو کھانا مہیا کیا۔ اس طرح معاشی ترقی مستقبل میں آنے والی اشتراکی ثقافت، فن و تنظیم باغبانی کے لیے راہ ہموار کرتی ہے جن کا اظہار ہماری اعلیٰ سطح کی برقی میکا نائی ٹیکنالوجی میں ہوتا ہے اور مطلوبہ مقصد آزاد اور خود مختار دیہی اور صنعتی لوگ ہیں بجائے اس کے کہ وہ مارکس کی صنعتی اور زرعی فوجیں ہوں۔

توڑ پھوڑ کے نظریے کا آخری حصہ نازک ہے۔ مارکس کی سرمایہ دارانہ پیداوار کے بارے میں پیشگوئی کہ اس کی نازک صورتحال کے دس سال بعد یہ زیادہ سے زیادہ شدید ہو جائے گی بھی پوری نہیں ہوئی بلکہ سرمایہ داروں نے یہ سمجھ لیا کہ کس طرح گروہ اور ٹرسٹ بنا کر نازک صورتحال کو کم کیا جا سکے۔ لیکن ایسی صورتحال نہیں ہے کہ نازک صورتحال جو سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کرنے کے لیے شروع ہوتی ہے اور اس کے پورے پیداواری نظام تک جاتی حتی الامکان نا ممکن ہے۔ لیکن یہ بدحالی ایسے واقعات کو جنم دیتی ہے جو سرمایہ داروں اور پیداوار کے تعلق جو منصوبہ بندی میں کمی سے پیدا ہوتا ہے اسے بحال کرتے ہیں۔ لاطینی میں اگر یہ اپنے اختتام کو پہنچ جائے تو یہ مارکس کی بیان کردہ شکل نہ ہو لے گی۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام سرمایہ اور خام مال میں کمی اور زیادہ قرض کی وجہ سے دیوالیہ ہو چکا ہے۔

موجودہ دور کی افرادی قوت معیار زندگی میں اچانک گراوٹ اور لوگوں کی بڑی تعداد کا بغیر کسی مزاحمت کے غریب ہونے کے امکان کا خاتمہ سماجی حالات میں تبدیلی والی بڑی عامل طات ہے۔ اس لیے اب باکونین کی تعلیمات کے مطابق اس بات کا انحصار پرولتاری کے انقلابی عزم و توانائی اور اہلیت پر ہو گا کہ آیا اجتماعیات ایک حقیقت کا روپ دھارتی ہے یا نہیں۔

مارکسز م کی نفی

حتیٰ کہ فوریر اور پرودھان مارکس سے کئی سال پہلے عین مطلق سرمایہ دارانہ تجزیے لکھ چکے تھے۔ یہ درست نظریہ مارکس کے علم میں ہوں گے اور اس کے تمام ان درست تجزیات کو آمرانہ غلطیوں سے بھر دیا۔ اپنی تمام تر تحقیق میں مارکس نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ تمام اوقات میں ایک شدید عمل ممکنہ دولت اور غریب میں فرق کرتا رہا تھا۔ اس لیے ہمارے دور کے سرمایہ دارانہ نظام کی ضمانت اس کی سرگرمی ہے جو موجودہ ریاستی عمل سرانجام دیتا ہے۔ مارکس نے معاشرے اور ریاست کے درمیان فرق کو نہ پہچانا اور یہی وجہ ہے کہ سماجیات کی روشنی میں مارکسز م رجعتی ہے کیونکہ وہ ریاست کے مقابلے میں معاشرے کو تقویت نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس ریاست کی مطلق العنانیت کے سامنے معاشرے کو بالکل لاغر کر دیتا ہے۔

لیکن سماجیات کا مطلب معاشرتی طاقت ہے۔ ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط سے انسانی آزادی کی امید صرف بڑھتی ہوئی ذہانت ، منصفانہ احساس کی پختی، انسانیت کی افراد کے لیے بڑھتی ہوئی حساسیت اور مضبوط تر ہوتے ہوئے اقلیتی گروہ کی صورت میں ہے جو بڑی حد تک ریاست اور سرمایہ دارانہ نظام کو ان کے فکر و فعل سے محروم کر سکتی ہے۔ یہ نئے لوگ ایک نئی سماجی تنطیم بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں جو بھرپور قوت سے کسی بھی طرح اسے سرمایہ دارانہ نظام سے علیٰحدہ کر سکتی ہے۔ اشتراکی نظام ایک قدرتی انبار کا نتیجہ نہیں ہوگا جیسا کہ مارکس نے دعویٰ کیا بلکہ وہ لوگ جو اس سلسلے میں سماجی اور تعمیری ہونا چاہتے ہیں وہ اشتراکی نظام لا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ یونین منتظمین کو ضرورت کو جواز دیتا ہے جنہیں نئے معاشروں میں اپنی جگہیں بنانی ہوں گی۔ ریاستی بالادستی پر ایک متحدہ پرولتاریت کے ذریعے اور پرولتاریت کو ایک یکسان معاشی محاذ پر لا کر اس پر اور مارکس کے نظریات کی بدعتوں پر غلبہ پانا اس کی مقدم شرط ہے۔

مارکس کے حامی بیان کرتے ہیں کہ سماجیت اپنی اہمیت 1870 میں صرف اس وقت حاصل کر سکتی ہے جب پروزین جرمنی نے فرانس پر فتح حاصل کی جہاں سلطنت کی مرکزیت اپنے سخت ترین بیانیے میں بظاہر تنظیم کی فاتح اور برتر شکل ثابت ہو گی۔

جنگ عظیم اول کے خاتمے پر پروزین فوجی طاقت ٹوٹ گئی اور یہ منظر غلط ظاہر ہوا اور اسے مارکس کے غلط سماجی نظریے کا خاتمہ کر دینا چاہیے تھا۔ کارکنوں کو مارکس کے برخلاف باکونین کے پہلے بین الاقوامی نظریات اور سماجی لبرل ازم کی طرف لوٹنا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اس کے بعد سو سال بلا مقصد گزر گئے جن میں مارکس کے غلط نظریات کو اہر بار باہر نکالا گیا ور ہضم کیا گیا۔ ہم جیسے انتاریوں کو مارکس کی بجائے باکونین کے سماجی آزاد خیالی کی طرف لوٹنا چاہیے اور آخر مارس کے غلط نظریات کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنا چاہیے۔

اکیسویں صدی عیسوی میں ہمارا کام ہر ممکنہ حد تک تیز کرنا ہے۔